عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں

خواجہ محمد وزیر

عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں

خواجہ محمد وزیر

MORE BYخواجہ محمد وزیر

    عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں

    مگر یہ حشر کا دن ہے کہ جس کی شام نہیں

    فراق یار میں دونو سے ہم کو کام نہیں

    ہوس سحر کی نہیں آرزوۓ شام نہیں

    ولائے کعبۂ ابرو سے منہ کو کیا پھیروں

    نماز ختم نہ ہو جب تلک سلام نہیں

    یہ سیف آپ کی مثل پری سہی قد ہے

    مگر یہ عیب ہے چلتی نہیں خرام نہیں

    کہو نہ سرو کو اک زر خرید ہی اپنا

    کیا جو بندے کو آزاد پھر غلام نہیں

    نہیں اعادۂ طاعت کو پیشوا درکار

    قضا نماز کو کچھ حاجت‌ امام نہیں

    کسی طرح شب فرقت بسر نہیں ہوتی

    کچھ اس کو گردش ایام سے بھی کام نہیں

    جو اس نے بات نہ کی ہو گیا مجھے اثبات

    دہن وہ تنگ ہے گنجائش کلام نہیں

    بجھی ہے آب سے کیا تیری تیغ تیز کی آنچ

    کہ خونفشاں مرے دل کا کباب خام نہیں

    پھری ہے فرقت جاناں میں چشم دختر رز

    یہ گردش آنکھ کی ساقی ہے دور جام نہیں

    نہ دیکھا نقش قدم کا صدائے پا نہ سنی

    سمند عمر سا کوئی سبک خرام نہیں

    برہنہ رہتی ہے شمشیر ابرو قاتل

    مثال تیغ اجل حاجت نیام نہیں

    بندھیں وہ ہاتھ حنا سے کیا ہے جن سے شہید

    کچھ اور یار سے منظور انتقام نہیں

    نہ داغ دو شب فرقت کا دن کو نام نہ لو

    ابھی چراغ نہ روشن کرو کہ شام نہیں

    جگر سے سینے سے دل سے گزر گئی دم میں

    تری طرح تری تلوار کو قیام نہیں

    ستارۂ‌‌ فلک حسن کہئے کم سن ہے

    ابھی وہ چاند کا ٹکڑا مہ تمام نہیں

    پھرے طلب میں جو دنیا کی وہ نہیں دیں دار

    مثال دانہ جو گردش میں ہے امام نہیں

    نہ خط مصحف عارض کا معتقد ہو وزیرؔ

    حروف جس میں ہوں اللہ کا کلام نہیں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY