گاؤں میں دیکھو ذرا کس نیند میں سب چل رہے ہیں

ابھیشیک جوشی تلسی

گاؤں میں دیکھو ذرا کس نیند میں سب چل رہے ہیں

ابھیشیک جوشی تلسی

MORE BY ابھیشیک جوشی تلسی

    گاؤں میں دیکھو ذرا کس نیند میں سب چل رہے ہیں

    ٹوٹ کر سارے مکاں کھنڈر کے پیکر ڈھل رہے ہیں

    آگ بانٹی اس طرح سب سے بڑی جمہوریت نے

    بجھ رہے چولھے ہیں گھر میں اور جنگل جل رہے ہیں

    آتما ہم نے جلا دی خود کے اوپر اوڑھنے کو

    اور پھر اس راکھ کو اپنے بدن پر مل رہے ہیں

    کیا غضب ہے گرم ہو کر بھی ہوا اڑتی نہیں ہے

    سوکھنے ندیاں لگی ہیں اور پربت گل رہے ہیں

    کٹ رہی ہے سانس خود کو گروی رکھواتے چھڑاتے

    زندگی کے نام پر سب لوگ خود کو چھل رہے ہیں

    گاڑتے بارود ہیں دھرتی کی چھاتی پھاڑ کر جو

    کیوں ہوئے حیران جب لگ گولیوں کے پھل رہے ہیں

    یہ حقیقت جان لو کوئی نشاں باقی نہ ہوگا

    آج تم رہتے جہاں ہو اس جگہ ہم کل رہے ہیں

    کیوں محبت کر رہے ہیں آپ بس اک میں سے مل کر

    اور کتنے میں نہ جانے میرے بھیتر پل رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY