گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سے

اعجاز گل

گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سے

    میں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سے

    کبھی کبھی تو غنیمت ہے یاد رفتہ کی

    بٹھا نہ روز لگا کے اسے سرہانے سے

    عجیب شخص تھا میں بھی بھلا نہیں پایا

    کیا نہ اس نے بھی انکار یاد آنے سے

    اٹھا رکھی ہے کسی نے کمان سورج کی

    گرا رہا ہے مرے رات دن نشانے سے

    کوئی سبب تو ہے ایسا کہ ایک عمر سے ہیں

    زمانہ مجھ سے خفا اور میں زمانے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY