ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

مرزا غالب

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

    کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور

    یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

    دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

    ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند

    ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور

    تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے

    لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

    ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں

    ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور

    ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا

    ہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور

    مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے

    جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور

    لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا

    ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور

    لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین

    کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور

    پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے

    رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ذوالفقار علی بخاری

    ذوالفقار علی بخاری

    نور جہاں

    نور جہاں

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib Jadeed (Al-Maroof Ba Nuskha-e-Hameedia) (Pg. 222)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY