ہم اپنے زخم کریدتے ہیں وہ زخم پرائے دھوتے تھے

عبد الاحد ساز

ہم اپنے زخم کریدتے ہیں وہ زخم پرائے دھوتے تھے

عبد الاحد ساز

MORE BY عبد الاحد ساز

    ہم اپنے زخم کریدتے ہیں وہ زخم پرائے دھوتے تھے

    جو ہم سے زیادہ جانتے تھے وہ ہم سے زیادہ روتے تھے

    اچھوں کو جہاں سے اٹھے ہوئے اب کتنی دہائیاں بیت چکیں

    آخر میں ادھر جو گزرے ہیں شاید ان کے پر پوتے تھے

    ان پیڑوں اور پہاڑوں سے ان جھیلوں ان میدانوں سے

    کس موڑ پہ جانے چھوٹ گئے کیسے یارانے ہوتے تھے

    جو شبد اڑانیں بھرتے تھے آزاد فضائے معنی میں

    یوں شعر کی بندش میں سمٹے گویا پنجروں کے طوطے تھے

    وہ بھیگے لمحے سوچ بھرے وہ جذبوں کے چقماق کہاں

    جو مصرعۂ تر دے جاتے تھے لفظوں میں آگ پروتے تھے

    یہ خشک قلم بنجر کاغذ دکھلائیں کسے سمجھائیں کیا

    ہم فصل نرالی کاٹتے تھے ہم بیج انوکھے بوتے تھے

    اب سازؔ نشیبوں میں دل کے بس کیچڑ کالی دلدل ہے

    یاں شوق کے ڈھلتے جھرنے تھے یاں غم کے ابلتے سوتے تھے

    RECITATIONS

    عبد الاحد ساز

    عبد الاحد ساز

    عبد الاحد ساز

    ہم اپنے زخم کریدتے ہیں وہ زخم پرائے دھوتے تھے عبد الاحد ساز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY