ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے

جمیل ملک

ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے

جمیل ملک

MORE BYجمیل ملک

    ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے

    کتنا مہیب شہر کا منظر لگا مجھے

    خلقت بہت تھی پھر بھی کوئی بولتا نہ تھا

    سنسان راستوں سے بہت ڈر لگا مجھے

    قاتل کا ہاتھ آج خدا کے ہے رو بہ رو

    دست دعا بھی خون کا ساغر لگا مجھے

    یوں ریزہ ریزہ ہوں کہ کوئی بھی ہوا نہ تھا

    یوں تو تری نگاہ کا کنکر لگا مجھے

    بیٹھے بٹھائے کوچۂ قاتل میں لے گیا

    معصوم دل بھی کتنا ستم گر لگا مجھے

    کس کس نے چٹکیوں میں اڑایا ہے میرا دل

    چاہے تو تو بھی آخری ٹھوکر لگا مجھے

    گلچیں پلٹ کے سب ترے کوچے سے آئے ہیں

    پھولوں کے راستے میں ترا گھر لگا مجھے

    وہ جاگتا رہا تو قیامت بپا رہی

    وہ سو گیا تو اور بھی کافر لگا مجھے

    دیکھا جب آنکھ بھر کے اسے ڈوبتا گیا

    عالم تمام عالم دیگر لگا مجھے

    اس کی خموشیوں میں نہاں کتنا شور تھا

    مجھ سے سوا وہ درد کا خوگر لگا مجھے

    جس آئنے میں بھی ترا پیکر سما گیا

    اس آئنے میں اپنا ہی جوہر لگا مجھے

    یا میرے دل سے حسرت پرواز چھین لے

    یا میرے پاس آ کے نئے پر لگا مجھے

    ساحل پہ جو کھڑا تھا تماشا بنا ہوا

    وہ گہرے پانیوں کا شناور لگا مجھے

    سوچا تو چور چور تھے شیشے کے گھر تمام

    دیکھا تو ہاتھ ہاتھ میں پتھر لگا مجھے

    آنکھوں سے گرد جھاڑ کے دیکھا تو دوستو

    کوتاہ قد بھی اپنے برابر لگا مجھے

    تاریکیوں میں نور کا ہالا بھی تھا کہیں

    دشت خیال اپنا مقدر لگا مجھے

    چھیڑی کچھ اس طرح سے جمیلؔ اس نے یہ غزل

    ہر ایک شعر قند مکرر لگا مجھے

    مآخذ :
    • کتاب : naquush (Pg. 255)
    • اشاعت : 1979

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY