اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے

زین العابدین خاں عارف

اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے

زین العابدین خاں عارف

MORE BYزین العابدین خاں عارف

    اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے

    ارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتے

    دم دم میں خبر پہنچے ہے جو آنے کی اپنی

    ہے جان لبوں پر وہ نکلنے نہیں دیتے

    آشوب قیامت سے زبس خوف ہے سب کو

    دو چار قدم بھی انہیں چلنے نہیں دیتے

    جاتا ہے صفائے رخ دل دار پہ جب دل

    مقدور تک اپنے تو پھسلنے نہیں دیتے

    عادت میں کرو فرق نہ تم اپنی نگہ سے

    کیوں زہر اسے آج اگلنے نہیں دیتے

    وہ پردہ نشینی کی رعایت ہے تمہاری

    ہم بات بھی خلوت سے نکلنے نہیں دیتے

    یہ دست بسر رہنے کا عارفؔ وہ محل ہے

    اس جا کف افسوس بھی ملنے نہیں دیتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY