جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی

فیض راحیل خان

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی

فیض راحیل خان

MORE BYفیض راحیل خان

    جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی

    موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی

    صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو

    یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی

    اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا

    تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی

    خانۂ دل میں بسی چشم لہو مانگیں ہے

    سوچتا تھا کہ کھلونے سے بہل جائے گی

    شام جب لوٹ گئی چھوڑ کے تنہا تجھ کو

    تا مجھے چھوڑ کے اب رات بھی ڈھل جائے گی

    اشک نکلے گا دھواں بن کے اسی محفل سے

    شمع جب کود کے اس آگ میں جل جائے گی

    پاؤں پھسلا تو گرے گی وہ کسی دلدل میں

    زندگی موت نہیں ہے کہ سنبھل جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY