کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

مومن خاں مومن

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

    دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے

    دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیے

    عاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے

    دل عشق تیری نذر کیا جان کیونکہ دوں

    رکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے

    قتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھے

    یہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے

    لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ اب

    تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے

    آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دے

    تسکین اضطراب دل زار کے لیے

    کیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تم

    ہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے

    چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدم

    طرز خرام و شوخئ رفتار کے لیے

    جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوں

    اظہار حال چشم گہربار کے لیے

    دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثال

    بوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے

    جینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھا

    مرتا ہوں زندگانیٔ دشوار کے لیے

    مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بت

    ڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY