موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا

عاصم واسطی

موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا

    آنکھوں میں اک سراب ہے دریا بنا ہوا

    اک اور شخص بھی ہے مرے نام کا یہاں

    اک اور شخص ہے مرے جیسا بنا ہوا

    سمجھا رہے ہو مجھ کو مرا ارتقا مگر

    دیکھا نہیں ہے آدمی پہلا بنا ہوا

    اے انہماک چشم ذرا یہ مجھے بتا

    چاروں طرف زمین پہ ہے کیا بنا ہوا

    کرنے لگا ہے طنز مرے نصف عکس پر

    مجھ میں جو ایک شخص ہے پورا بنا ہوا

    پہلے کسی کی آنکھ نے پاگل کیا مجھے

    اب ہوں کسی نظر کا تماشا بنا ہوا

    کھلتی نہیں ہیں تجھ پہ ہی عریانیاں تری

    عاصمؔ ترا لباس ہے اچھا بنا ہوا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY