مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط

آغا اکبرآبادی

مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط

آغا اکبرآبادی

MORE BYآغا اکبرآبادی

    مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط

    میری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط

    گھبرا نہ اس قدر دل بے تاب صبر کر

    آتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط

    لکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا

    پہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط

    تحریر ان کی سینہ پہ رکھ دیجیو مرے

    بدلے جواب نامہ کے آئے گا کام خط

    لکھا ہے اب نہ لکھیں گے ہم کوئی خط تجھے

    خط آیا میری موت کا لایا پیام خط

    ضائع نہ جائے گی تری محنت کسی طرح

    قاصد اجورہ دیتا ہوں چٹکی میں تھام خط

    عاشق نوازیاں ہیں طبیعت میں یار کی

    لکھا ہے ہر مہینے میں بھیجو مدام خط

    تحریر کر کے سیکڑوں وعدے مکر گئے

    دکھلاؤں گا حضور کو روز قیام خط

    خط لکھ کے آج ڈاک پہ پہنچیں گے یار کو

    پہنچائے گا ہمارا پیام و سلام خط

    آغاؔ نثار ہوجیے انعام دیجئے

    لایا ہے ان کا قاصد صرصر خرام خط

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے