نظروں سے بصیرت کی نہاں کچھ بھی نہیں ہے

جمیل الدین عالی

نظروں سے بصیرت کی نہاں کچھ بھی نہیں ہے

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    نظروں سے بصیرت کی نہاں کچھ بھی نہیں ہے

    سب کچھ ہے جہاں اور جہاں کچھ بھی نہیں ہے

    ہم مٹ گئے اس فطرت‌ آشفتہ کی خاطر

    حالانکہ وہ غارت گر جاں کچھ بھی نہیں ہے

    دل کی جو نہ کہیے تو زباں کاشف اسرار

    اور دل کی جو کہیے تو زباں کچھ بھی نہیں ہے

    دل والوں کو دل والوں سے ہے حرف و حکایت

    ظاہر میں محبت کا نشاں کچھ بھی نہیں ہے

    رنگین و نظر سوز مناظر سے گزر کر

    پہنچا ہوں وہاں میں کہ جہاں کچھ بھی نہیں ہے

    یہ عشق کی ظاہر ہو تو ہل جائیں دو عالم

    جز چند اشارات نہاں کچھ بھی نہیں ہے

    مجھ خوگر بیگانگئ دوست کو عالیؔ

    بیگانگئ اہل جہاں کچھ بھی نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY