پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

شاہین عباس

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

    پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

    اے محبت تیرے دکھ سے دوستی آساں نہ تھی

    تجھ سا ہو کر تیری ویرانی کا اندازہ ہوا

    عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خود پر کئے

    عمر بھر میں عالم فانی کا اندازہ ہوا

    اک زمانے تک بدن بن خواب بن آداب تھے

    پھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا

    تیرے ہاتھوں جل اٹھے ہم تیرے ہاتھوں جل بجھے

    ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہوا

    لوگ میری بند آنکھوں میں سے گزرے تب انہیں

    اپنی اپنی خواب سامانی کا اندازہ ہوا

    ایک گھیرا وقت کا ہے دوسرا نا وقت کا

    خود نگر کچھ اپنی نگرانی کا اندازہ ہوا

    صورتیں بگڑیں تو اپنی حالتوں میں آئے ہم

    آئنہ ٹوٹا تو حیرانی کا اندازہ ہوا

    رات اک دہلیز ایسی آ گئی تھی خواب میں

    رات کچھ کچھ اپنی پیشانی کا اندازہ ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY