رعایا دے رہی تھی شوق سے بیگار جسموں کی

صباحت عروج

رعایا دے رہی تھی شوق سے بیگار جسموں کی

صباحت عروج

MORE BYصباحت عروج

    رعایا دے رہی تھی شوق سے بیگار جسموں کی

    یہی تقدیر ہے آقا یہاں نادار جسموں کی

    گرا ڈالے گی تجھ پہ آسماں جو سرسراہٹ ہے

    تمہارے پاؤں نیچے رینگتے بیدار جسموں کی

    مؤرخ گولیوں کے خول گنتے جا رہے تھے اور

    حکایت لکھ رہے تھے ہم یہاں مسمار جسموں کی

    محبت صرف کہنے کو تعلق تیل پانی سا

    ریاضت عمر بھر کرتے رہے بیکار جسموں کی

    خدا تیرا نظام عدل رب العالمیں تیرا

    شریعت تجھ کو دیتی ہے اجازت چار جسموں کی

    اسے تو فکر دامن گیر تھی شہہ کے قصیدے کی

    کہانی اک طرف رکھی رہی بیمار جسموں کی

    بدن چھوڑو صباحت ہو سکے تو روح کو تھامو

    کوئی دم گرنے والی ہے یہاں دیوار جسموں کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY