سب معافی مانگتی چٹھی کو باغی کہتے ہیں

ابھیشیک جوشی تلسی

سب معافی مانگتی چٹھی کو باغی کہتے ہیں

ابھیشیک جوشی تلسی

MORE BY ابھیشیک جوشی تلسی

    سب معافی مانگتی چٹھی کو باغی کہتے ہیں

    ہم تو گردن جھولتی پھانسی کو باغی کہتے ہیں

    گونگوں نے آواز دی تو سارے بہرے چل پڑے

    اور اندھے آ کے اس ٹولی کو باغی کہتے ہیں

    شہر بھوکے کھا گئے ہیں جانے کتنی بستیاں

    شہر کا منہ چیرتی بستی کو باغی کہتے ہیں

    بس سمجھ آتی نہیں ہے اس لئے جاہل سبھی

    آدیواسی لوگوں کی بولی کو باغی کہتے ہیں

    سر ڈھکے گی جب تلک ہے خوبصورت تب تلک

    جب کمر کستی ہے تو چنری کو باغی کہتے ہیں

    ہار مانی تھی نہ دشمن سے کہ جس نے ہم اسے

    دروپدیؔ کی جنگ جو ساڑی کو باغی کہتے ہیں

    ایک بڑھیا کو مرے اشعار کیا اپنے لگے

    نوجواں شاعر سبھی تلسی کو باغی کہتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY