تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

کیف بھوپالی

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

کیف بھوپالی

MORE BYکیف بھوپالی

    تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

    حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے

    انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعوے داروں سے

    شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے

    سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے

    پہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے

    ہمارے داغ دل زخم جگر کچھ ملتے جلتے ہیں

    گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے

    کبھی ہوتا نہیں محسوس وہ یوں قتل کرتے ہیں

    نگاہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے

    ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے

    کنوؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے

    نہ آئے پر نہ آئے وہ انہیں کیا کیا خبر بھیجی

    لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے

    زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں

    امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے

    وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا

    دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے

    کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے

    مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے