تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں

آزاد گلاٹی

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں

    میں بھی تیرا بھولا ہوا اک رستا ہوں

    بیتے لمحوں کے جھونکے جب آتے ہیں

    پل دو پل کو میں پھر سے کھل اٹھتا ہوں

    مجھ سے مژدہ نئی رتوں کا پاؤ گے

    یارو میں اس پیڑ کا انتم پتا ہوں

    شاید تم بھی اب نہ مجھے پہچان سکو

    اب میں خود کو اپنے جیسا لگتا ہوں

    آج کے کالے سائے کل تک پھیلیں گے

    میرے بچو میں اس بات سے ڈرتا ہوں

    تم بھی کیسے ڈھونڈ سکو گے اب مجھ کو

    میں خود اپنے آپ سے اوجھل رہتا ہوں

    سایوں کی خواہش نے مجھے جلایا ہے

    اب میں ان کے نام سے تپنے لگتا ہوں

    مجھ سے مل کر کس کو یقین اب آئے گا

    میں بھی تیرا ٹوٹا ہوا اک رشتہ ہوں

    مآخذ
    • کتاب : Aab-e-Sharab (Pg. 83)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY