یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں

جمیل الدین عالی

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں

    سننے والوں غور نہ کرنا سارے راگ پرانے ہیں

    سننے والو غور نہ کرنا ورنہ کھل ہی جائیں گے

    کتنے خالی بھید ہمارے جو کب سے افسانے ہیں

    سننے والوں غور نہ کرنا ورنہ پتہ چل جائے گا

    ہم نے جتنے باغ سجائے وہ اب تک ویرانے ہیں

    سننے والو غور نہ کرنا ورنہ صاف سمجھ لو گے

    ہم نے جتنے نام لیے تھے آج بھی سب انجانے ہیں

    سننے والو غور نہ کرنا ورنہ خفا ہو جاؤ گے

    جن کو ہم نے دوست کہا ہے ہم ان سے بیگانے ہیں

    سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہمیں ٹھکرا دو گے

    ہم اندر سے سخت کمینے باہر سے دیوانے ہیں

    سننے والو غور نہ کرنا ہم بے سر ہو جائیں گے

    جب تک تم سر دھنتے رہو گے سارے گیت سہانے ہیں

    سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہم خود کہہ دیں گے

    ہم اب شعر نہیں کہہ سکتے یہ سب شعر بہانے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY