زہر بیمار کو مردے کو دوا دی جائے

دلاور فگار

زہر بیمار کو مردے کو دوا دی جائے

دلاور فگار

MORE BYدلاور فگار

    زہر بیمار کو مردے کو دوا دی جائے

    ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

    وصل کی رات جو محبوب کہے گڈ نائٹ

    قاعدہ یہ ہے کہ انگلش میں دعا دی جائے

    آج جلسے ہیں بہت شہر میں لیڈر کم ہیں

    احتیاطاً مجھے تقریر رٹا دی جائے

    مار کھانے سے مجھے عار نہیں ہے لیکن

    پٹ چکوں میں تو کوئی وجہ بتا دی جائے

    میری وحشت کی خبر گھر کو ہوئی ہے جب سے

    چھت یہ کہتی ہے کہ دیوار ہٹا دی جائے

    بس میں بیٹھی ہے مرے پاس جو اک زہرہ جبیں

    مرد نکلے گی اگر زلف منڈا دی جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    زہر بیمار کو مردے کو دوا دی جائے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY