Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بار_خواہش

محسن خالد محسن

بار_خواہش

محسن خالد محسن

MORE BYمحسن خالد محسن

    انسان لالچ کرتا ہے

    یہ اس کی ہڈیوں میں رکھا ہوا

    ایک نرم سا شعلہ ہے

    جو موقع ملتے ہی بھڑک اٹھتا ہے

    ہمارے ابا نے بھی

    ایک دن جوش کی پیشانی چوم کر

    بار امانت سر پر رکھ لیا تھا

    سوچا تھا قامت سیدھی رہے گی

    مگر بوجھ نے

    گھٹنوں سے پہلے انا توڑ دی

    شرمندگی

    انسان کا پہلا استاد ہے

    لالچ

    صرف زر کا نہیں ہوتا

    کبھی نام کا

    کبھی دوام کا

    کبھی اس یقین کا

    کہ میں غلط نہیں ہو سکتا

    کہتے ہیں

    قابیل نے حسن کی چاہ میں

    خون کی پہلی لکیر کھینچی

    اور ہابیل بھی

    قبولیت کے غرور سے خالی نہ تھا

    ابراہیمؔ نے خوشنودی چاہی

    اور آگ کو دلیل بنا دیا

    فرعون نے خدائی مانگی

    اور دریا میں اتر گیا

    نمرود نے بادشاہت کو آسمان تک اچھالا

    اور ایک معمولی ضرب سہہ نہ سکا

    قارون نے دولت کو دوام سمجھا

    اور زمین نے اسے اپنی گواہی میں دفن کر دیا

    زمانہ بدلتا رہتا ہے

    لالچ کی تعریفیں بدلتی رہتی ہیں

    مگر معنی وہی رہتے ہیں

    میں نے بھی لالچ کیا

    ایک خواب کا

    ایک ترتیب کا

    ایک ایسی عورت کا

    جو میرے بے ترتیب دنوں کو

    قرینے سے رکھ دے

    میں نے سوچا تھا

    وہ میرے گھر کی دیواروں پر

    سکون کی سفیدی پھیر دے گی

    اور میں

    اپنے وہم کی سلطنت میں

    ایک شہزادے کی طرح رہوں گا

    مگر حسن

    جب خود کو آئینہ سمجھنے لگے

    تو سامنے کھڑا شخص

    محض عکس رہ جاتا ہے

    وہ ذہین تھی

    اور میں

    محبت کو دلیل سمجھنے کی غلطی میں مبتلا

    پھر یوں ہوا

    کہ الزام

    میرے نام کا دوسرا جزو بن گیا

    ذلت

    میری پیشانی کا استعارہ

    اور خاموشی

    میری واحد پناہ

    میں نے محبت کا دامن نہیں چھوڑا

    کیونکہ مجھے سکھایا گیا تھا

    کہ عورت کو معاف کر دینا

    مردانگی کی معراج ہے

    مگر معافی

    جب یک طرفہ ہو

    تو انصاف یتیم ہو جاتا ہے

    محبت

    دوسرے پر حق جتانے کا نام نہیں

    مگر ہم عبادت میں بھی

    جزا کے امیدوار رہتے ہیں

    خواہش اور حاکمیت کے درمیان

    ایک باریک لکیر ہوتی ہے

    اسے پار کرتے ہی

    محبت

    معاہدہ بن جاتی ہے

    میں نے چاہا

    کہ میرے جذبات کی تعظیم ہو

    میری برتری تسلیم کی جائے

    اور رشتہ

    اطاعت کے ستونوں پر کھڑا ہو

    مگر انسان

    نسیان کا پتلا ہے

    آج کا وعدہ

    کل کی یاد داشت میں نہیں رہتا

    میں تم سے بہتر پا سکتی ہوں''

    یہ جملہ نہیں

    ایک زلزلہ ہے

    جو مرد کے وجود میں

    صدیوں سے تعمیر کی گئی عمارت گرا دیتا ہے

    لالچ

    جب اپنی توجیہہ خود گھڑنے لگے

    تو خواہش نہیں رہتا

    جبر بن جاتا ہے

    اور جبر

    ہر رشتے کا پہلا زوال ہے

    اب میں لالچ سے ڈرتا نہیں

    اسے پہچان لیتا ہوں

    وہ جب دعا بنے

    تو سر جھکا دیتا ہوں

    اور جب غرور بنے

    تو آنکھ بند کر لیتا ہوں

    اب میں خواہش سے انکار نہیں کرتا

    مگر اسے نام دینے سے پہلے

    اپنا ظرف دیکھ لیتا ہوں

    اصل امتحان

    دوسرے کو حاصل کرنا نہیں

    خود کو پہچاننا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے