بار_خواہش
انسان لالچ کرتا ہے
یہ اس کی ہڈیوں میں رکھا ہوا
ایک نرم سا شعلہ ہے
جو موقع ملتے ہی بھڑک اٹھتا ہے
ہمارے ابا نے بھی
ایک دن جوش کی پیشانی چوم کر
بار امانت سر پر رکھ لیا تھا
سوچا تھا قامت سیدھی رہے گی
مگر بوجھ نے
گھٹنوں سے پہلے انا توڑ دی
شرمندگی
انسان کا پہلا استاد ہے
لالچ
صرف زر کا نہیں ہوتا
کبھی نام کا
کبھی دوام کا
کبھی اس یقین کا
کہ میں غلط نہیں ہو سکتا
کہتے ہیں
قابیل نے حسن کی چاہ میں
خون کی پہلی لکیر کھینچی
اور ہابیل بھی
قبولیت کے غرور سے خالی نہ تھا
ابراہیمؔ نے خوشنودی چاہی
اور آگ کو دلیل بنا دیا
فرعون نے خدائی مانگی
اور دریا میں اتر گیا
نمرود نے بادشاہت کو آسمان تک اچھالا
اور ایک معمولی ضرب سہہ نہ سکا
قارون نے دولت کو دوام سمجھا
اور زمین نے اسے اپنی گواہی میں دفن کر دیا
زمانہ بدلتا رہتا ہے
لالچ کی تعریفیں بدلتی رہتی ہیں
مگر معنی وہی رہتے ہیں
میں نے بھی لالچ کیا
ایک خواب کا
ایک ترتیب کا
ایک ایسی عورت کا
جو میرے بے ترتیب دنوں کو
قرینے سے رکھ دے
میں نے سوچا تھا
وہ میرے گھر کی دیواروں پر
سکون کی سفیدی پھیر دے گی
اور میں
اپنے وہم کی سلطنت میں
ایک شہزادے کی طرح رہوں گا
مگر حسن
جب خود کو آئینہ سمجھنے لگے
تو سامنے کھڑا شخص
محض عکس رہ جاتا ہے
وہ ذہین تھی
اور میں
محبت کو دلیل سمجھنے کی غلطی میں مبتلا
پھر یوں ہوا
کہ الزام
میرے نام کا دوسرا جزو بن گیا
ذلت
میری پیشانی کا استعارہ
اور خاموشی
میری واحد پناہ
میں نے محبت کا دامن نہیں چھوڑا
کیونکہ مجھے سکھایا گیا تھا
کہ عورت کو معاف کر دینا
مردانگی کی معراج ہے
مگر معافی
جب یک طرفہ ہو
تو انصاف یتیم ہو جاتا ہے
محبت
دوسرے پر حق جتانے کا نام نہیں
مگر ہم عبادت میں بھی
جزا کے امیدوار رہتے ہیں
خواہش اور حاکمیت کے درمیان
ایک باریک لکیر ہوتی ہے
اسے پار کرتے ہی
محبت
معاہدہ بن جاتی ہے
میں نے چاہا
کہ میرے جذبات کی تعظیم ہو
میری برتری تسلیم کی جائے
اور رشتہ
اطاعت کے ستونوں پر کھڑا ہو
مگر انسان
نسیان کا پتلا ہے
آج کا وعدہ
کل کی یاد داشت میں نہیں رہتا
میں تم سے بہتر پا سکتی ہوں''
یہ جملہ نہیں
ایک زلزلہ ہے
جو مرد کے وجود میں
صدیوں سے تعمیر کی گئی عمارت گرا دیتا ہے
لالچ
جب اپنی توجیہہ خود گھڑنے لگے
تو خواہش نہیں رہتا
جبر بن جاتا ہے
اور جبر
ہر رشتے کا پہلا زوال ہے
اب میں لالچ سے ڈرتا نہیں
اسے پہچان لیتا ہوں
وہ جب دعا بنے
تو سر جھکا دیتا ہوں
اور جب غرور بنے
تو آنکھ بند کر لیتا ہوں
اب میں خواہش سے انکار نہیں کرتا
مگر اسے نام دینے سے پہلے
اپنا ظرف دیکھ لیتا ہوں
اصل امتحان
دوسرے کو حاصل کرنا نہیں
خود کو پہچاننا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.