فوبیا
تمہیں میرے پاس اتنی دیر خاموش بیٹھنا چاہیئے تھا
کہ میری نظمیں بولنے لگ جاتیں
اور تمھارے بعد
میں اپنی دبی ہوئی آوازوں کو سن سکتا
جو چپ رہ کر مجھے اندر سے نوچ رہی ہیں
مکمل نیند نہ لینے سے
دماغ خود کو کھانا شروع کر دیتا ہے
شاید میں اپنی خاموشی کبھی بیان نہ کر سکوں
سائیکا لوجسٹ ہمیں زندہ رکھنے کی کتنی کوشش کر سکتے ہیں
اگلی بار جب تم مجھے ملو گی
میرے احساسات نگل لیے گئے ہوں گے
اور ایک خول باقی رہ جائے گا
میں فوبیا کا شکار ہو چکا ہوں
اور خون کی بو محسوس کرتا ہوں
جیسے آخری ہچکی سے پہلے کوئی موت کو محسوس کر لے
اور اس کی آنکھوں میں
زندگی موم کی طرح پگھل رہی ہو
ان آنکھوں میں جھانک کر لوگ رونے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے
میں اب کچھ نہیں کر سکتا
موت ایک بھینس کی طرح
ہمیں اپنا چارہ سمجھ کر چبا جائے گی
اور خود بالآخر ذبح کر دی جائے گی
ہم اپنے ڈر کا گلا دبا کر اسے مار نہیں سکتے
ہم اپنے ڈر کو گہرے پانی میں دھکا نہیں دے سکتے
ہم اپنے ڈر کا قتل نہیں کر سکتے
میرے ہاتھ کانپنے لگ جاتے ہیں
جب مجھے غصہ آئے
اور جسم سنسنا جاتا ہے
زندگی وحشت کا روپ دھارنے میں وقت نہیں لیتی
زندگی ہمیں اکیلا پانے کی تاک میں ہے
جبکہ میں موت سے خوفزدہ نہیں
تمہیں میرے ساتھ اتنی دیر جاگتے رہنا چاہیئے تھا
کہ میں ابدی نیند سو سکتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.