اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو

نصیر احمد ناصر

اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو

نصیر احمد ناصر

MORE BY نصیر احمد ناصر

    اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو

    تھکے لگتے ہو

    آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیں

    فاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے

    اجنبی! کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہو

    کون سے دیسوں کے قصے

    درد کی خاموش لے میں گا رہے ہو

    دور سے نزدیک آتے جا رہے ہو

    اجنبی آؤ!

    کسی اگلے سفر کی رات سے پہلے

    ذرا آرام کر لو

    پھر سنیں گے داستاں تم سے انوکھی سر زمینوں کی

    ہوا میں تیرتے رنگیں مکانوں کی مکینوں کی

    پڑاؤ عمر بھر کا ہے

    الاؤ تیز ہونے دو

    محبت خیز ہونے دو

    شناسا خواہشوں کی خوشبوئیں جلنے لگی ہیں

    اجنبیت قربتوں کے لمس میں سرشار

    گم گشتہ زمانے ڈھونڈھتی ہے

    زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈھتی ہے!!

    مآخذ:

    • کتاب : Arabchi so gia hai (Pg. 75)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY