بے یقینی

MORE BYجمیل الدین عالی

    یوں تو اپنے ہی اندر کا سچ اور وہ سچ ہے ارے تا ابد تجھ کو کافی ہے

    کل کی جانب سے اس بے یقینی کے سارے عوارض کا شافی ہے

    تیری صد سمت اور بے غرض چھوٹی چھوٹی کئی خدمتوں کا یہ پشتارہ ہے

    بے چارہ

    اور اس کے ساتھ ایک درد ندامت ہی وجہ معافی ہے

    اس طرح پیش بینی روایات اور مصلحت کے منافی ہے

    پھر بھی

    تجھے حال کا کوئی یک طرفہ صاحب مقال آج جو بھی کہے

    یاد یہ بھی رہے

    کتنے حالوں کی تاریخ نے ان کو کیا کر دیا

    جس کا جتنا تھا حق رفتہ رفتہ ادا کر دیا

    جب ترا حال ماضی بنے گا تو گو اگلے پچھلوں پہ حیرت کریں گے

    تیری خود ناتمامی نہ واضح ہوئی تو حکایت شکایت کریں گے

    اور کچھ لغزشوں کی ندامت کریں گے

    مگر تیرے سچ اور تجھ سے بہت ہی محبت کریں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY