جو بولے مارا جائے

جمیل الدین عالی

جو بولے مارا جائے

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    وقت نے پوچھا

    کیا تم مجھ کو جانتے ہو

    ہاں

    کیا تم مجھ کو مانتے ہو

    ناں

    کیا مطلب ہے

    کیا مطلب تھا

    وقت بھی چپ ہے

    جانے وہ کب کیا بولے گا

    آج کی کتنی باتوں کو بھی

    کیسے کیسے بدلنے والے

    بنتے بنتے غم سے خوشی سے اور حیرت سے

    اپنی آنکھیں ملنے والے

    میزانوں میں ڈنڈی مار کے یا سچائی سے تولے گا

    اور پھر میں بھی چپ نہ رہوں گا

    لیکن

    جو اس وقت مجھے بھی کہنا لازم ہو

    وہ کہہ نہ سکوں گا

    شاید وہ سب سہہ نہ سکوں گا

    ہاں بھئی لے اس لمحے میں تجھ کو مانتا بھی ہوں

    اب یہ چھوڑ کہ جانتا بھی ہوں

    جو تو چاہے آج بتا دے

    ورنہ مجھ کو ابھی بھلا دے

    کون اب کیا کیا کس کو سکھائے

    جو بولے وہ مارا جائے

    اے میراؔ جی آپ کو تو سب بھول گئے ہیں

    آپ یہاں اور مجھ جیسے معتوب زماں کو آخر اک دم کیوں یاد آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY