کہیں کچھ نہیں ہوتا

شاہد ماہلی

کہیں کچھ نہیں ہوتا

شاہد ماہلی

MORE BY شاہد ماہلی

    کہیں کچھ نہیں ہوتا

    نہ آسمان ٹوٹتا ہے

    نہ زمیں بکھرتی ہے

    ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی ہے

    ماہ و سال

    شب و روز

    برف کی طرح جم گئے ہیں

    اب کہیں اجنبی قدموں کی چاپ سے

    کوئی دروازہ نہیں کھلتا

    نہ کہیں کسی جادوئی چراغ سے

    کوئی پریوں کا محل تعمیر ہوتا ہے

    نہ کہیں بارش ہوتی ہے

    نہ شہر جلتا ہے

    کہیں کچھ نہیں ہوتا

    اب ہمیشہ ایک ہی موسم رہتا ہے

    نہ نئے پھول کھلتے ہیں

    نہ کہیں پت جھڑ ہوتا ہے

    کھیتوں اور کھلیانوں سے

    سجے ہوئے بازاروں تک

    نئے موسم کے انتظار میں

    لوگ چپ چاپ کھڑے ہیں

    نہ کہیں کوئی کنواری ہنستی ہے

    نہ کہیں کوئی بچہ روتا ہے

    کہیں کچھ نہیں ہوتا

    راستوں پر اور افق بکھر گئے ہیں

    اور کتابوں پہ دھول

    دماغوں میں جالے ہیں

    اور دلوں میں خوف

    گلیوں میں دھواں ہے

    اور گھروں میں بھوک

    اب نہ کوئی جنگل جنگل بھٹکتا ہے

    نہ کوئی پتھر کاٹ کاٹ کر نہریں نکالتا ہے

    کہیں کچھ نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY