میں آ رہا ہوں

صوفی تبسم

میں آ رہا ہوں

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    میں جانتا ہوں

    یہ رات کو چپکے چپکے خوابوں میں

    یوں ترا بار بار آنا

    وہ سہمے سہمے ہوئے سے رکنا

    وہ بے کسی میں قدم اٹھانا

    وہ حسرت گفتگو میں تیرے

    خموش ہونٹوں کا تلملانا

    سمجھ گیا ہوں

    کہ مجھ سے ملنے کی آرزو

    تجھ کو کیسے بے تاب کر رہی ہے

    مگر مری جان!

    تو ایسی منزل پہ جا رہی ہے

    جہاں سے پیچھے کو

    لوٹ آنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے

    تو پھر کیا ہوگا

    جہاں یہ بے روز و شب کے اتنے

    طویل لمحے گزر گئے ہیں

    کچھ اور دل کو ذرا سنبھالو

    کچھ اور ابھی انتظار کر لو

    میں آ رہا ہوں

    میں آ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY