تم نے اسے کہاں دیکھا ہے

نصیر احمد ناصر

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے

نصیر احمد ناصر

MORE BYنصیر احمد ناصر

    کبھی تم نے دیکھا ہے

    خوابوں سے آگے کا منظر

    جہاں چاند تاروں سے روٹھی ہوئی

    رات اپنے برہنہ بدن پر

    سیہ راکھ مل کر

    الاؤ کے چاروں طرف ناچتی ہے!

    کبھی تم نے جھانکا ہے

    پلکوں کے پیچھے

    تھکی نیلی آنکھوں کے اندر

    جہاں آسمانوں کی ساری اداسی

    خلا در خلا تیرتی ہے

    کبھی تم نے اک دن گزارا ہے

    رستوں کے دونوں طرف ایستادہ

    گھنے سبز پیڑوں کے نیچے

    جہاں دھوپ اپنے لیے

    راستہ ڈھونڈھتی ہے!

    کبھی تم نے پوچھا ہے

    چلتے ہوئے راستے میں

    کسی اجنبی سے

    پتا اس کے گھر کا

    ہوا جس کے قدموں کے مٹتے نشاں چومتی ہے

    نگر در نگر گھومتی ہے!!

    مآخذ :
    • کتاب : Pani mein gum khawab (Pg. 19)
    • Author : Naseer Ahmed Nasir
    • مطبع : Sanjh Publications Pakistan (2013)
    • اشاعت : 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY