زندہ پانی سچا

ساقی فاروقی

زندہ پانی سچا

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    پل کے نیچے جھانک کے دیکھو آج ندی طوفانی ہے

    بپھری لہریں جھاگ اڑاتی ہیں کیا زندہ پانی ہے

    اور بھنور پل کے بے رنگ ستونوں سے ٹکراتے ہیں

    جن پر بوجھ ہے اس پل کا وہ شانے ٹوٹے جاتے ہیں

    وہ اک کبڑا پیڑ ندی پر یوں جھک آیا ہے جیسے

    ایک کنارہ ہاتھ بڑھا کر دوسرے سے ملنا چاہے

    دور اک میڈک چیخ رہا ہے، خطروں سے آزاد ہوں میں

    اس سے بڑھ کر غارت گر طوفان نظر سے گزرے ہیں

    اک پانی کا سانپ نہ جانے کب سے اس کی تاک میں ہے

    وہ بھی جانتا ہے یہ راز کہ ملنا آخر خاک میں ہے

    ایک قمیص چلی آتی ہے جانے کہاں سے بہتی ہوئی

    جس میں ناخن گاڑ دیے ہیں اب اک آبی جھاڑی نے

    اس کا مالک بچھڑ گیا ہے یہ بھی اس کے پاس چلی

    اک بہتے دروازے پر اک بھیگی بلی بیٹھی ہے

    جو آنے والے لمحوں کی بابت سوچتی جاتی ہے

    سوچتے سوچتے اس کی آنکھیں ہو جائیں گی سحر زدہ

    اور اس کے بالوں کا ریشم پانی میں مل جائے گا

    لہر کی اک دیوار گری اور بلبلے دب کر ٹوٹ گئے

    جن کی پھوٹتی آنکھوں سے کچھ خواب نکل کر بھاگ چلے

    یہ خوابوں کے دیکھنے والے آخر کیوں نہیں سوچتے ہیں

    سب افسانے جھوٹے ہیں، سب خواب بکھرنے والے ہیں

    اس لافانی جھوٹ کے پیچھے سچ ہے اگر تو اتنا ہے

    یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے پانی بہتا رہتا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    زندہ پانی سچا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY