Aanis Moin's Photo'

آنس معین

1960 - 1986 | ملتان, پاکستان

پاکستان کے ممتاز شاعر جنہوں نے محض ستائیس سال کی عمر میں خودکشی کر لی

پاکستان کے ممتاز شاعر جنہوں نے محض ستائیس سال کی عمر میں خودکشی کر لی

آنس معین کا تعارف

پیدائش :ملتان, پنجاب

وفات : 05 Feb 1986

رشتہ داروں : سید فخر الدین بلے (والد)

آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا تھا

آج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کا

اردو ادب میں بہت کم وقت میں اپنی شناخت بنانے والے شعرا میں آنس معین اپنے عہد کے ایک ایسے شاعر تھے، جن کا طرز احساس، طرز بیان اور طرز فکر دوسرے شعرا سے یکسر مختلف تھا۔ ان کی شاعری نے اپنے وقت کے نامور نقادوں، ادیبوں اور شاعروں کو چونکایا۔ وہ اپنی عمر سے بہت آگے کے شاعر تھے۔ آنس معین کی پیدائش 29 نومبر 1960ء میں لاہور میں ہوئی ۔ ان کے والد کا نام سید فخرالدین بلے تھا جو خود ایک شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ اپنے 7 بھائی بہنوں میں وہ پانچوے نمبر پر تھے۔ آنس نے میٹرک کا امتحان 1973ء میں اور بی اے کا 1978ء میں پاس کیا۔ 

اپنی ملازمت کا آغاز انہوں نے ایک بینک آفیسر  کے عہدے سے کیا۔ وہاں پر اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جلد ہی ان کا پرموشن فارن اسٹاف میں کر دیا گیا، جس کی پوسٹنگ اگست 1986ء میں ہونی تھی۔ وہ شطرنج کے بے حد شوقین تھے اور اس میں مہارت حاصل کر چکے تھے۔ اپنے شعری سفر کا آغاز انہوں نے 1977ء میں کیا اور محض 9 سالوں میں 150 سے زیادہ غزلیں اور ڈھیروں نظمیں تخلیق کیں۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے کلام کو دیوان کی شکل میں شائع کرنے پر توجہ نہیں دی اور مشاعروں میں بھی جانے سے گریز کرتے رہے۔ کبھی کبھی وہ اپنی غزلیں اور نظمیں رسالہ "اوراق" اور بعض اخبارات میں اشاعت کے لئے بھیج دیتے۔ آنس بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں نغمگی کی دل گداز کیفیت، درد و غم، رنج و الم اور منظر کی پیکر تراشی کے عنصر نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اردو ادب کے نامور شعرا نے ان کی شاعرانہ عظمت کو قبول کیا اور ان کی شاعری کے مداح بنے۔ احمد ندیم قاسمی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "میں رشک کرتا ہوں کہ آنس معین جیسے شعر کہہ سکوں"۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نوجوان نسل میں کافی مقبول ہوئے۔ آنس معین نے محض 27 برس کی عمر میں 5 فروری 1987ء کو ملتان ریلوے سٹیشن پر ٹرین کے آگے لیٹ کر خودکشی کر لی۔ جب یہ سانحہ پیش آیا تھا تب ان کے والد اسلام آباد اور ان کی ماں کراچی میں تھیں۔ انھیں بہاول پور کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

موضوعات

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے