Aanis Moin's Photo'

آنس معین

1960 - 1986 | ملتان, پاکستان

پاکستان کے ممتاز شاعر جنہوں نے محض ستائیس سال کی عمر میں خودکشی کر لی

پاکستان کے ممتاز شاعر جنہوں نے محض ستائیس سال کی عمر میں خودکشی کر لی

غزل 12

اشعار 31

ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا

دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

  • شیئر کیجیے

انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے

خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا

پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے

تھا انتظار منائیں گے مل کے دیوالی

نہ تم ہی لوٹ کے آئے نہ وقت شام ہوا

اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں

کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

کتاب 1

معلم اردو

شمارہ نمبر ـ 002

1992

 

تصویری شاعری 11

بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیا تمام رنگ یہیں آس_پاس چھوڑ گیا

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی یہ انتظار سحر کا تھا یا تمہارا تھا دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشم_دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایا بھی بہت مہین تھا پردہ لرزتی آنکھوں کا مجھے دکھایا بھی تو نے مجھے چھپایا بھی بیاض بھر بھی گئی اور پھر بھی سادہ ہے تمہارے نام کو لکھا بھی اور مٹایا بھی

ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

ہو جائے_گی جب تم سے شناسائی ذرا اور بڑھ جائے_گی شاید مری تنہائی ذرا اور کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو_گے یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور تردید تو کر سکتا تھا پھیلے_گی مگر بات اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور کیوں ترک_تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟ اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم جیتو_گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور بڑھ جائیں_گے کچھ اور لہو بیچنے والے ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

ہو جائے_گی جب تم سے شناسائی ذرا اور بڑھ جائے_گی شاید مری تنہائی ذرا اور کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو_گے یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور تردید تو کر سکتا تھا پھیلے_گی مگر بات اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور کیوں ترک_تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟ اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم جیتو_گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور بڑھ جائیں_گے کچھ اور لہو بیچنے والے ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے بیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہے آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب_زدہ تھا پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس میں میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے شور تو یوں اٹھا تھا جیسے اک طوفاں ہو سناٹے میں جانے کیسے ڈوب گیا ہے آخری خواہش پوری کر کے جینا کیسا آنسؔ بھی ساحل تک آ کے ڈوب گیا ہے

آڈیو 10

اک کرب_مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • نعمان شوق نعمان شوق ہم عصر
  • شارق کیفی شارق کیفی ہم عصر

"ملتان" کے مزید شعرا

  • غلام حسین ساجد غلام حسین ساجد
  • قمر رضا شہزاد قمر رضا شہزاد
  • محسن نقوی محسن نقوی
  • ضیاء المصطفیٰ ترک ضیاء المصطفیٰ ترک
  • وقار خان وقار خان
  • حنا عنبرین حنا عنبرین
  • اطہر ناسک اطہر ناسک
  • اسلم انصاری اسلم انصاری
  • عابد ملک عابد ملک
  • رمزی آثم رمزی آثم