Wali Aasi's Photo'

والی آسی

1939 - 2002 | لکھنؤ, انڈیا

والی آسی

غزل 24

اشعار 23

انہیں بھی جینے کے کچھ تجربے ہوئے ہوں گے

جو کہہ رہے ہیں کہ مر جانا چاہتے ہیں ہم

آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے

آج سے طے ہے کہ دشمن کو دعا دینا ہے

ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن

اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا

  • شیئر کیجیے

کبھی بھولے سے بھی اب یاد بھی آتی نہیں جن کی

وہی قصے زمانے کو سنانا چاہتے ہیں ہم

سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیں

اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے

کتاب 11

تصویری شاعری 4

 

ویڈیو 7

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
Mere Fasane Ko Yun Lazawal

والی آسی

Musalla Rakhte HaiN

والی آسی

پھر وہی ریگ_بیاباں کا ہے منظر اور ہم

والی آسی

ہم اپنے_آپ پہ بھی ظاہر کبھی دل کا حال نہیں کرتے

والی آسی

آڈیو 7

بھولے_بسرے ہوئے غم یاد بہت کرتا ہے

بہ_رنگ_نغمہ بکھر جانا چاہتے ہیں ہم

بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے