Abbas Qamar's Photo'

عباس قمر

1994 | دلی, ہندوستان

نئی نسل کے شاعرو ں میں شامل

نئی نسل کے شاعرو ں میں شامل

میرے کمرے میں اداسی ہے قیامت کی مگر

ایک تصویر پرانی سی ہنسا کرتی ہے

ہم ہیں اسیر ضبط اجازت نہیں ہمیں

رو پا رہے ہیں آپ بدھائی ہے روئیے

اشکوں کو آرزوئے رہائی ہے روئیے

آنکھوں کی اب اسی میں بھلائی ہے روئیے

خوش ہیں تو پھر مسافر دنیا نہیں ہیں آپ

اس دشت میں بس آبلہ پائی ہے روئیے

انہیں آنکھوں نے بیدردی سے بے گھر کر دیا ہے

یہ آنسو قہقہہ بننے کی کوشش کر رہے تھے

حالت حال سے بیگانہ بنا رکھا ہے

خود کو ماضی کا نہاں خانہ بنا رکھا ہے

خموشی کہہ رہی ہے اب یہ دو آبا رواں ہوگا

ہوا چپ ہو تو بارش کے شدید آثار ہوتے ہیں