Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

عبدالغفار مدہولی

1905 - 1982 | دلی, انڈیا

بچوں کے ادیب، ڈرامہ نگار، اور 'جامعہ کی کہانی' کے مصنف

بچوں کے ادیب، ڈرامہ نگار، اور 'جامعہ کی کہانی' کے مصنف

عبدالغفار مدہولی کا تعارف

اصلی نام : عبدالغفار

پیدائش : 05 Sep 1905 | آندھرا پردیش

وفات : 13 Feb 1982 | آندھرا پردیش

شناخت: بچوں کے ادیب، ڈرامہ نگار، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ممتاز معلم اور 'جامعہ کی کہانی' کے مصنف

عبد الغفار مدھولی 5 ستمبر 1905ء میں آندھرا پردیش میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی دہلی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے بچوں کے لیے ڈرامہ نگاری کی صنف کو نئی زندگی بخشی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بحیثیت معلم گزارا۔ پہلے پرائمری اسکول اور پھر اساتذہ کے مدرسے (ٹیچرز ٹریننگ کالج) میں تدریسی خدمات انجام دیں۔

وہ جامعہ کے مشہور 'اردو خط و کتابت کورس' کے روحِ رواں رہے اور اس کے لیے نصابی کتابیں بھی مرتب کیں۔

ڈاکٹر ذاکر حسین کی تحریک کے تحت جب بچوں کے لیے اصلاحی ادب تخلیق کرنے کا منصوبہ بنا، تو عبد الغفار مدھولی کے حصے میں "ڈرامہ نگاری" کا میدان آیا۔ اردو ادب میں بچوں کے لیے ڈراموں کی شدید کمی تھی، جسے مدھولی صاحب نے اپنی تخلیقی کاوشوں سے پُر کیا۔ انہوں نے ایسے ڈرامے لکھے جنہیں بچے خود اسکولوں میں کھیل سکیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’قوم پرست طالب علم‘، ’اسکول کی زندگی‘، ’محنت‘، ’چھوٹا لڑکا‘، ’چور لڑکا‘ اور ’بچوں کی عدالت میں دعوے‘ شامل ہیں۔

ڈراموں کے علاوہ انہوں نے بچوں کی تربیت کے لیے کہانیاں بھی لکھیں، جیسے ’بچوں کا انصاف‘ اور ’بچے بڑوں سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں‘۔

عبد الغفار مدھولی کا ایک عظیم الشان کارنامہ ان کی کتاب 'جامعہ کی کہانی' (اشاعت: 1965ء) ہے۔ اس کتاب میں جامعہ کے قیام (1920ء) سے لے کر آزادیِ ہند (1947ء) تک کی 27 سالہ داستان رقم کی گئی ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بغیر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ مرتب کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے اپنی ایک اور کتاب 'ایک معلم کی زندگی' کے تجربات کو بھی اس تاریخ نگاری میں سمو دیا ہے۔

کیمپ فائر کی نقلیں: یہ کتاب اسکاؤٹ بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے، جس میں مزاحیہ کرتب، گانے، نعرے اور اداکاری کے فن کو نہایت دلچسپ انداز میں سکھایا گیا ہے۔

انہوں نے پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے کئی ایسی درسی کتابیں مرتب کیں جو دہلی کے سرکاری اسکولوں میں طویل عرصے تک پڑھائی جاتی رہیں۔

وفات: 1982 میں انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے