غزل

اسے دیکھ کر اپنا محبوب پیارا بہت یاد آیا

عبد الحمید

ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

عبد الحمید

ایک مشعل تھی بجھا دی اس نے

عبد الحمید

پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں

عبد الحمید

دل میں جو بات ہے بتاتے نہیں

عبد الحمید

سائے پھیل گئے کھیتوں پر کیسا موسم ہونے لگا

عبد الحمید

عجیب شے ہے کہ صورت بدلتی جاتی ہے

عبد الحمید

کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے

عبد الحمید

کتنی محبوب تھی زندگی کچھ نہیں کچھ نہیں

عبد الحمید

کچھ اپنا پتہ دے کر حیران بہت رکھا

عبد الحمید

کسی دشت و در سے گزرنا بھی کیا

عبد الحمید

کسی کا قہر کسی کی دعا ملے تو سہی

عبد الحمید

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI