عبدالمنان طرزی کا تعارف
شناخت: زود گو شاعر، صدرِ جمہوریہ ہند ایوارڈ یافتہ ادیب اور منظوم مقالہ نگار
عبدالمنان طرزی 3 جولائی 1940ء کو جلوارہ، ضلع دربھنگہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد قاری محمد داؤد طالب سے حاصل کی، جن سے حفظِ قرآن، فارسی کی ابتدائی کتابیں اور خوش خطی کا فن سیکھا۔
تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے غیر معمولی جدوجہد کا مظاہرہ کیا۔ میٹرک کے بعد معاشی ذمہ داریوں کے باعث عملی زندگی اختیار کی، مگر حصولِ علم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا۔ انہوں نے سرکاری ملازمت کے ساتھ نجی طور پر آئی اے، بی اے (اردو آنرز)، ایم اے اردو، ایم اے فارسی اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں ’’نواب سید سعادت علی خاں پیغمبر پوری: حیات و خدمات‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
پروفیسر طرزی کی عملی زندگی محنت، جدوجہد اور خود سازی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے مختلف نوعیت کی ملازمتوں کے بعد 1961ء میں دربھنگہ میڈیکل کالج میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ 1972ء میں ان کی تقرری کنور سنگھ کالج لہریا سرائے میں لکچرر کے طور پر ہوئی۔ بعد ازاں وہ للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئے اور بحیثیت یونیورسٹی پروفیسر سبکدوش ہوئے۔
ادبی میدان میں پروفیسر طرزی کا شمار عہد حاضر کے قادرالکلام اور زود گو شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ اب تک ساٹھ ہزار سے زائد اشعار کہہ چکے ہیں اور ان کی شاعری میں فکری تنوع، لسانی مہارت اور فنی انفرادیت نمایاں ہے۔
ان کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ اردو ادب میں منظوم مقالہ نگاری ہے، جس کے ذریعے انہوں نے علمی و تنقیدی مضامین کو شعری قالب میں پیش کرنے کی نئی روایت قائم کی۔ ان کے منظوم مقالات ولی دکنی، پریم چند، مولانا روم اور امام غزالی جیسے موضوعات پر قومی و بین الاقوامی علمی سیمیناروں میں پیش کیے گئے اور غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔
ان کی اہم تصانیف میں آیاتِ جنوں، آہنگِ غزل اور منظوم مقالے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے سینکڑوں غیر مسلم نعت گو شعرا کا منظوم تذکرہ مرتب کر کے اردو نعتیہ ادب میں ایک منفرد اضافہ کیا۔
فارسی زبان و ادب پر ان کی گہری دسترس کے اعتراف میں 2012ء میں انہیں صدرِ جمہوریہ ہند کے ہاتھوں فارسی زبان و ادب کا باوقار صدارتی اعزاز عطا کیا گیا۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no2002042792