Afzal Allahabadi's Photo'

افضل الہ آبادی

1984 | الہٰ آباد, ہندوستان

1.2K
Favorite

باعتبار

میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں

وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا

ابھی تو اس کا کوئی تذکرہ ہوا بھی نہیں

ابھی سے بزم میں خوشبو کا رقص جاری ہے

اب تو ہر ایک اداکار سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے

وہ جس نے دیکھا نہیں عشق کا کبھی مکتب

میں اس کے ہاتھ میں دل کی کتاب کیا دیتا

وہ جس کی راہ میں میں نے دیئے جلائے تھے

گیا وہ شخص مجھے چھوڑ کر اندھیرے میں

غموں کی دھوپ میں ملتے ہیں سائباں بن کر

زمیں پہ رہتے ہیں کچھ لوگ آسماں بن کر

تو جگنو ہے فقط راتوں کے دامن میں بسیرا کر

میں سورج ہوں تو مجھ سے آشنائی کر نہیں سکتا

تیری نسبت ملی مجھے جب سے

میں کوئی آرزو نہیں کرتا

خودی کی دولت عظمیٰ خدا نے مجھ کو بخشی ہے

قلندر ہوں میں شاہوں کی گدائی کر نہیں سکتا

میں اضطراب کے عالم میں رقص کرتا رہا

کبھی غبار کی صورت کبھی دھواں بن کر

ہو نہیں پاتی شاعری افضلؔ

نذر جب تک لہو نہیں کرتا

اشک آنکھوں میں لئے آٹھوں پہر دیکھے گا کون

ہم نہیں ہوں گے تو تیری رہ گزر دیکھے گا کون

یادوں کے نشیمن کو جلایا تو نہیں ہے

ہم نے تجھے اس دل سے بھلایا تو نہیں ہے

یوں علاج دل بیمار کیا جائے گا

شربت‌ دید سے سرشار کیا جائے گا

ہر نغمۂ پر درد ہر اک ساز سے پہلے

ہنگامہ بپا ہوتا ہے آغاز سے پہلے