Ahmad Nadeem Qasmi's Photo'

احمد ندیم قاسمی

1916 - 2006 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، اہم افسانہ نگاروں میں بھی ممتاز، اپنے رسالے ’فنون‘ کے لئے مشہور، سعادت حسن منٹو کے ہم عصر

پاکستان کے ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، اہم افسانہ نگاروں میں بھی ممتاز، اپنے رسالے ’فنون‘ کے لئے مشہور، سعادت حسن منٹو کے ہم عصر

غزل

انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا

فہد حسین

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی

احمد ندیم قاسمی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

نعمان شوق

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا

نعمان شوق

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں_نظری کا

نعمان شوق

انداز ہو_بہو تری آواز_پا کا تھا

نیرہ نور

پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے

نعمان شوق

تو جو بدلا تو زمانہ بھی بدل جائے_گا

نعمان شوق

تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا

نعمان شوق

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم

نعمان شوق

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی

نعمان شوق

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں

احمد ندیم قاسمی

دعویٰ تو کیا حسن_جہاں_سوز کا سب نے

نعمان شوق

سورج کو نکلنا ہے سو نکلے_گا دوبارا

نعمان شوق

شام کو صبح_چمن یاد آئی

نعمان شوق

فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو

نعمان شوق

قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے

احمد ندیم قاسمی

گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیں

نعمان شوق

لب_خاموش سے افشا ہوگا

احمد ندیم قاسمی

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ

احمد ندیم قاسمی

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے

نعمان شوق

ہر لمحہ اگر گریز_پا ہے

احمد ندیم قاسمی

ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ_شب ہیں

نعمان شوق

ہوتا نہیں ذوق_زندگی کم

نعمان شوق

انداز ہو_بہو تری آواز_پا کا تھا

نعمان شوق

نظم

ایک نظم

نعمان شوق

بیسویں صدی کا انسان

نعمان شوق

انفصال

نعمان شوق

ایک درخواست

نعمان شوق

جنگل کی آگ

نعمان شوق

سفر اور ہم_سفر

نعمان شوق

قریۂ محبت

نعمان شوق

قیامت

نعمان شوق

گناہ و ثواب

نعمان شوق

لرزتے سائے

نعمان شوق

ڈھلان

نعمان شوق

اشعار

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں_گا

احمد ندیم قاسمی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI