Ahmad Nadeem Qasmi's Photo'

احمد ندیم قاسمی

1916 - 2006 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، اہم افسانہ نگاروں میں بھی ممتاز، اپنے رسالے ’فنون‘ کے لئے مشہور، سعادت حسن منٹو کے ہم عصر

پاکستان کے ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، اہم افسانہ نگاروں میں بھی ممتاز، اپنے رسالے ’فنون‘ کے لئے مشہور، سعادت حسن منٹو کے ہم عصر

تخلص : 'ندیم'

اصلی نام : احمد شاہ اعوان

پیدائش : 20 Nov 1916 | سرگودھا, پاکستان

وفات : 10 Jul 2006

Relatives : منصورہ احمد (بیٹی), ناہید قاسمی (بیٹی)

LCCN :n81032097

اتنا مانوس ہوں سناٹے سے

کوئی بولے تو برا لگتا ہے

احمد ندیم قاسمی اردو کے ان گنتی کے ادیبون اور شاعروں مین سے ایک ہیں جنھوں نے ایک ساتھ فکشن اور شاعری میں غیر معمولی فنکاری کا مظاہرہ کیا۔انھوں نے اردو فکشن کے زرّیں عہد میں  افسانہ نگاری کے میدان میں امیاز حاصل کیا ۔سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی کے دورِ عروج میں کسی دوسرے افسانہ نگار کا چراغ جلنا مشکل تھا لیکن قاسمی نے اس عہد میں بھی اپنی اہمیت کا لوہا منوایا۔انھوں نے انسانی فطرت کے پیچ و خم کو اپنے گہرے مشاہدے کی روشنی میں اک جامع شکل دی۔وہ دیہی زندگی  کے بڑے نبض شناس تھے اور انسانی نفسیات کو بھی اچھی طرح سمجھتے تھے۔ انھوں نے زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے کرداروں کی نفسیاتی گرہیں کھولنے کی بھی کوشش کی۔ان کے افسانوں میں ہر نوع کے کردار پاے جاتے ہیں ۔عورتوں کی مظلومی پر لکھے گئے ان کے افسانے ان کو اپنے ہمعصروں سے ممتاز کرتے ہیں۔اپنے افسانوں  میں احمد ندیم قاسمی نے دیہی زندگی اور اس کے مسائل کی جس طرح تصویر کشی کی ہے اس کے لئے کچھ ناقدین ان کو  اس میدان میں پریم چند کے بعد دوسرا بڑا فنکار مانتے ہیں۔ان کی شاعری میں انسان دوستی کا پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ادیب و شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ احمد ندیم قاسمی ادیب گر بھی تھے۔نثر میں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کی اور شاعری میں انھوں نے احمد فراز،امجد اسلام امجد پروین شاکر اور گلزارکی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی۔ ان کے زمانہ میں ایک وقت ایسا تھا جب پاکسانی ادیب و شاعر دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ایک احمد ندیم قاسمی کا گروپ تھا اور دوسرا وزیر آغا کا گروپ۔ہمعصر شعراء میں ن۔م۔ راشد اور فیض ااحمد فیض سے ان کی نہیں بنتی تھی۔ اپنے قریبی دوست پروفیسر فتح محمد ملک کو انھوں نے جو خطوط لکھے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاصر شعراء کے حوالہ سے ان کے اندر خود پسندی اور رعونت پیدا  ہو گئی تھی۔وہ خود کو فیض سے بہتر شاعر سمجھتے تھےاور ہر موقع پر،شعوری یا غیر شعروری طور پر، فیض کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے تھے،جس میں ان کو کبئی کامیابی نہیں ملی۔ن ۔ م۔ راشد ان کی خود تشہیری کی وجہ سے انھیں نا پسند کرتے تھے ۔  اپنے سے جونیر شاعروں اور ادیبوں میں انھیں وزیر آغا ،کشور ناہید ،افتخار عارف اور انور سدید  پسند نہیں  تھے،بعد کے دنوں میں پروین شاکر بھی اپنے "عمّو" سے دور ہو گئی تھیں۔

احمد ندیم قاسمی پاکستان کے ضلع خوشاب میں 20 نومبر 1916 کو پیدا ہوے۔تین سال کی عمر میں والد پیر غلام نبی کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے نتیجہ میں بچپن  میں ان کو شدید مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے میٹرک کا امتحان 1930 میں شیخو پورہ کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے پاس کیا ۔اسی زمانہ میں انھوں نے شاعری شروع  کردی تھی۔مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر ان کی پہلی  نظم روزنامہ سیاست میں شائع ہوئی تھی۔ 1934 سے 1937 تک ان کی غزلیں اور  نظمیں روزنامہ انقلاب اور روزنامہ زمیندار میں شائع ہوتی رہیں اور انھوں نے نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل کر لی۔1935 میں انھوں نے بی اے کا امتحان پاس کیا اور تلاش معاش میں لاہور چلے گئے۔یہاں ان کی ملاقات اپنے وقت کے اہم ادیبوں اور شاعروں ،اخر شیرانی،صوفی غلام مصطفی تبسّم، منٹو اور کرشن چند سے ہوئی۔ 1935 سے انھوں نے کہانیاں لکھنی شروع  کر دی تھیں ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ  "چوپال" 1935 میں شائع ہوا جبکہ پہلا شعری مجموعہ "دھڑکن"1942 میں منظر عام پر آیا۔1939 میں انھوں نے محکمہ ء آبکاری میں ملازمت کر لی 1940 میں انھوں نے ایک فلم "دھرم پتنی" کے مکالمے اور گانے لکھے لیکن یہ فلم کبھی مکمل نہیں ہوئی۔1942 میں انھوں نے آبکاری کے محلمہ کی ملازمت چھوڑ دی اور امتیاز علی تاج کے اشاعتی ادارے میں بچوں کے رسالہ "پھول" اور خواتین کے جریدہ "تہذیب نسواں" کی ادارت سنبھال لی۔ پھر وہ 1943 میں معروف ادبی رسالہ "ادب لطیف" کے مدیر مقرر کر دئے گئے۔اسی رسالہ میں منٹو کی کہانی "بو" شئع ہوئی تھی جس کے لئے منٹو پر فحش نگاری کا مقدمہ چلا تھا اور قاسمی بھی اس کی لپیٹ میں آے تھے۔1946 میں انھون نے ادب لطیف کی ادارت چھوڑ کر ریڈیو پشاور ممیں بظور اسکرپٹ رائٹر ملازمت کر لی۔جہاں انھوں نے 1948 تک کام کیاَ پھر وہ ادبی رسالہ "نقوش" کی ادارت کرنے لگے۔وہ ترقی پسند تحریک سے وابسہ تھے اور انھیں انجمن ترقی پسند مصنفین کی پاکستان شاخ کا جنرل سکریٹری منخب کیا گیا تھا۔لیکن بعد میں انھوں نے اس تحریک سے دوری اختیار کر لی۔1963 میں انھوں نے اپنا رسالہ "فنون" نکالا۔ اور تا عمر اس کی ادارت کرتے رہے۔وہ روزنامہ امروز کے لئے فکاہیہ کالم پنج دریا" بھی لکھتے تھے اور کچھ دنوں اس اخبار کے مدیر کے فرائض بھی انجام دئے۔انھوں نے روزنامہ جنگ اور روزنامہ حریت کے لئے بھی کالم لکھے۔ 1950 اور 1970 کے عشروں میں وہ کئی بار گرفتار کئے گئے۔1958 میں انھیں سرکاری ادارے مجلس ترقی ادب کا سکریٹری جنرل مقرر کیا گیا۔1968 میں حکومت پاکستان نے انھیں "تمغہ ء حسن کارکردگی" سے اور 1980 مین ملک کے سب سے پڑے سیویلین ایوارڈ " نشان امتیاز" سے نوازا۔2006 میں دمہ کے عارضہ میں ان کا انتقال ہوا۔

احمد ندیم قاسمی نے نظم و نثر میں تقریبا 50 کتابیں لکھیں شاعری میں ان کے مجموعے "جلال و جمال،"،شعلہ ء گل"،اور کشتِ وفا اور اور کہانیوں کے مجموعے "چوپال"،سنّاٹا"،کپاس کے پھول"،بگولے"،آنچل" اور" گھر سے گھر تک" کو خاص مقبولیت ملی۔10 جولائی 2009ء کو پاکسان کے محکمہ ء ڈاک نے ان کی تیسری برسی کے موقع پپر 5 روپے مالیت کا خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

احمد ندیم قاسمی کی  ادبی اہمیت کا تذکرہ کرے ہوے پروفیسر گوپی چند نارنگ کا کہنا ہے کہ مقصد اور فن کا حسین توازن قاسمی کی پپہچان اور ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ قاسمی ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے لیکن وہ اتنے بڑے ترقی پسند نہیں جتنے بڑے فنکار ہیں وہ ادب میں پروپیگنڈہ کی بے اعتدالی سے بچتے رہے۔ان کے ہاں نظریہ کی آمیزش کے ساتھ رومان کی حسین فضا اور مٹّی سے محبت کے حوا،لے موجود ہیں۔ان کے افسانوں میں زمین اور انسان سے ان کی محبت کھُل کر سامنے آتی ہے۔ان کے ہاں غم ،غصے،نفرت ۔تنگ نظری اور تشدد کا کوئی شائبہ نہیں وہ ہر کہیں مہر و محبت اور  خلوص و وفا کا مجسمہ نظر آتے ہیں اور یہی ان کی بڑائی کی دلیل ہے۔