غزل 21

اشعار 18

ہو بہ ہو آپ ہی کی مورت ہے

زندگی کتنی خوبصورت ہے

جل کر گرا ہوں سوکھے شجر سے اڑا نہیں

میں نے وہی کیا جو تقاضا وفا کا تھا

کوئی نادیدہ انگلی اٹھ رہی ہے

مری جانب اشارہ ہو رہا ہے

ہوا سہلا رہی ہے اس کے تن کو

وہ شعلہ اب شرارے دے رہا ہے

فن کار بضد ہے کہ لگائے گا نمائش

میں ہوں کہ ہر اک زخم چھپانے میں لگا ہوں

کتاب 4

ہر اک طرف سے

 

2001

پہاڑ مجھے بلاتا ہے

 

2003

شور بادباں

 

 

وزیر آغا کے خطوط اکبر حمیدی کے نام

 

1995

 

"اسلام آباد" کے مزید شعرا

  • احمد فراز احمد فراز
  • افتخار عارف افتخار عارف
  • ضیا جالندھری ضیا جالندھری
  • اعتبار ساجد اعتبار ساجد
  • سرفراز زاہد سرفراز زاہد
  • حارث خلیق حارث خلیق
  • طارق نعیم طارق نعیم
  • نور بجنوری نور بجنوری
  • منظر نقوی منظر نقوی
  • زاہد امروز زاہد امروز