اکبر حمیدی

غزل 21

اشعار 18

رات دن پھر رہا ہوں گلیوں میں

میرا اک شخص کھو گیا ہے یہاں

ہو بہ ہو آپ ہی کی مورت ہے

زندگی کتنی خوبصورت ہے

جل کر گرا ہوں سوکھے شجر سے اڑا نہیں

میں نے وہی کیا جو تقاضا وفا کا تھا

کئی حرفوں سے مل کر بن رہا ہوں

بجائے لفظ کے الفاظ ہوں میں

ہوا سہلا رہی ہے اس کے تن کو

وہ شعلہ اب شرارے دے رہا ہے

کتاب 4

 

"اسلام آباد" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI