Akhlaq Ahmad Ahan's Photo'

اخلاق احمد آہن

1974 | دلی, ہندوستان

محقق اور شاعر ،اپنی طویل نظم "سوچنے پہ پہرا ہے "کے لیے مشہور/ پروفیسر جے این یو

محقق اور شاعر ،اپنی طویل نظم "سوچنے پہ پہرا ہے "کے لیے مشہور/ پروفیسر جے این یو

اصلی نام : اخلاق احمد انصاری

پیدائش : 01 Mar 1974 | بگہا, ہندوستان

LCCN :n2007201448

غم وجود کا ماتم کروں تو کیسے جیوں

مگر خدا ترے دامن پہ داغ ہے کہ نہیں

پروفیسراخلاق احمد آہن جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہیں۔قبل ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبہ فارسی میں عارضی طور پر تدریس کی خدمات انجام دی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سے بی۔اے ( جغرافیہ آنرز) ،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے ایم۔اے(فارسی) اور یہیں سے جدید فارسی شاعری کے موضوع پر پی ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ علاوہ ازیں تاریخ میں ایم اے اور انٹر نیشنل سینٹر آف کلچرل ریلیشنز، ایران کی زیرِسرپرستی تربیت مدرس یونیورسٹی، تہران سے جدید فارسی میں ایڈوانس کورس کیا۔ ملک و بیرون ملک سیمیناروں ، شعری و ادبی محفلوں میں شرکت کی اور مختلف معیاری رسائل و جرائد میں مستقل چھپتے رہے ہیں۔ اردو اور فارسی میں شاعری کے علاوہ تحقیق و تنقید کے میدان میں اہم کام انجام دیے ہیں۔ امیرخسرو، بیدل اور خیام کے حوالے سے موصوف کی تحقیقات نہایت قابل قدر ہیں۔انھیں علمی کارناموں کے اعتراف میں اکو، ایران؛ افغانستان کلچر ہاؤس، بہار اردو اکادمی اور دہلی اردو اکادمی نے ادبی اعزازات سے نوازا اور آپ کی تخلیقی و تحقیقی خدمات پر ایران کے سحر ٹی وی چینل نے ڈکومینٹری فلم بنائی۔ تالیفات میں: مسالہ تمثیل در ادبیات فارسی ، ہندوستان میں فارسی صحافت کی تاریخ، امیر خسروز انڈیا(انگریزی) اور مرتبہ کتابوں میں:مقالات مولاناعرشی، آصفی رام پوری ،میرزابیدل وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔طویل نظم ”سوچنے پہ پہرا ہے“ اپنی تخلیقی و موضوعاتی تنوع کی بنا پر موضوع بحث ہے۔ فارسی کلام کے ساتھ ساتھ ان کی اردو شعری تخلیقات بھی فارسی اور پشتو زبان میں ترجمہ ہوکر شائع ہوتی رہی ہیں۔