امان حیدر کے اشعار
حالات چاہے جو بھی ہوں دل تو بڑا رکھو
یہ وقت کٹ ہی جائے گا تم حوصلہ رکھو
جان سے بڑھ کے ہوا کرتی ہے عزت پیارے
سر دیا جاتا ہے دستار بچانے کے لیے
طلب نہیں ہے ہمیں دوسری محبت کی
امانؔ چائے دوبارہ ضرور چاہتے ہیں
کچھ ہمیں پاؤں کے چھالوں سے بھی امداد ہوئی
اور کچھ راستہ زنجیر نے آسان کیا
قسم اٹھائی ہے سینہ ہی نوچ ڈالیں گے
کبھی جو عشق کی محسوس کی چبھن ہم نے
اے ماہتابو اجالوں کی بھیک لے جاؤ
ہمارے پاؤں کے چھالوں کی آفتابی سے
یہ اشک پلکوں پہ ٹھہریں تو ایسا لگتا ہے
کسی مکان کی دہلیز پر دیے رکھے ہیں
ہمیشہ شعر کہنے کی مشقت کرنی پڑتی ہے
اسیران سخن کس نے کہا آزاد ہوتے ہیں