noImage

عمار اقبال

1986 | لاہور, پاکستان

عمار اقبال کے اشعار

1.2K
Favorite

باعتبار

میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں

زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں

ایک ہی بات مجھ میں اچھی ہے

اور میں بس وہی نہیں کرتا

ایک درویش کو تری خاطر

ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے

میں نے تصویر پھینک دی ہے مگر

کیل دیوار میں گڑی ہوئی ہے

اس نے ناسور کر لیا ہوگا

زخم کو شاعری بناتے ہوئے

میں آئینوں کو دیکھے جا رہا تھا

اب ان سے بات بھی کرنے لگا ہوں

خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی

راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں

ہاتھ جس کو لگا نہیں سکتا

اس کو آواز تو لگانے دو

کیسے کیسے بنا دیئے چہرے

اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے

یہ جو میں ہوں ذرا سا باقی ہوں

وہ جو تم تھے وہ مر گئے مجھ میں

کیسا مجھ کو بنا دیا عمارؔ

کون سا رنگ بھر گئے مجھ میں

اور کتنی گھماؤ گے دنیا

ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے