noImage

عمار اقبال

1986 | لاہور, پاکستان

عمار اقبال کا تعارف

پیدائش :کراچی, سندھ

LCCN :n2019210401

ایک درویش کو تری خاطر

ساری بستی سے عشق ہو گیا ہے

عمار اقبال کا شمار ان نوجوان اور قابلِ لحاظ شعراء میں ہوتا ہے جو غزل سے اپنا لہجہ استوار کرنے کے بعد نظم کی طرف مائل بہ تخلیق ہوئے تو اس میدان میں بھی سنجیدہ قاری نے ان کو سراہا۔
انھوں نے اپنی شاعری میں جذبوں کی تازگی اور بیانیے پر بوسیدگی کا سایہ تک نہیں پڑنے دیا شکستہ اقدار کی بحالی کے طالب عمار اقبال ثقافتی اورتہذیبی تقاضوں کو جمالیاتی سطح پر اپنے اندر سمو کر اظہار کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہے جہاں ان کی غزلیں نئے پیرایوں میں سج دھج کر سامنے آتی ہیں وہیں ان کی نظمیں بھی سلیقے اور ہنرمندی سے آراستہ ہیں۔

عمار اقبال معیار اور مقدار میں حسنِ توازن کے ساتھ  روایت سے انتہائی محتاط رابطہ رکھتے ہوئے لائقِ تحسین و توجہ شعر کہتے ہیں۔ آج کل آپ پرونیٹ لکھ رہے ہیں جو اردو شاعری میں ایک نئی صنفِ اظہار ہے اور نثری نظم کے نئے خد و خال پیدا کر کے ان نئے لکھنے والوں میں مقبول ہے جو اظہار کی نئی راہیں کھوجنے میں کوشاں ہیں.
عمار اقبال 1986 میں کراچی میں پیدا ہُوئے اور فی الحال لاہور میں مقیم ہیں. 2015 میں آپ کا پہلا مجموعہ "پرندگی" کے نام سے شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کر چُکا ہے اور دوسرا شعری مجموعہ "منجھ روپ" کے نام سے شائع ہوا جس کو ادبی حلقوں میں سراہا گیا.  ان کی  لندن،  ہندوستان اور پاکستان سے اردو انگریزی اور ہندی میں فلسفہ فکشن اور شاعری جیسی اہم اصناف پر دس کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں. آپ شعبہ درس و تدریس اور ریڈیو سے بھی منسلک رہے۔

آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں 
پرندگی(غزلیں ،نظمیں )،منجھ روپ(نظمیں )، پرونیٹ(نثری سانیٹ)، منجھ روپیت(ترجمہ: کافکا)،اجنبی(ترجمہ: کامیو)
بیضوی عورت (ترجمہ: لیونورا کیرنگٹن)، دیوانوں کی ڈائیریاں(تراجم: موپساں، گوگول، لیو شان)، مرگستان (ترجمہ: البرٹ کامیو)،گڈ مارننگ

موضوعات

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے