امن اقبال کے اشعار
دیکھتا روز ہے وہ مجھ کو مگر جانے کیوں
چاند سے اپنی کوئی بات نہیں ہوتی ہے
ان کی خوشبو سے مہکتی ہیں ہزاروں صدیاں
پھول جو راہ محبت میں بکھر جاتے ہیں
وصل کی راہ نکالیں تو نکل سکتی ہے
ہجر ہی اپنا مقدر ہو ضروری تو نہیں
دعا کرو کہ کوئی راہ وصل کی نکلے
تمام عمر مہاجر نہیں رہیں گے ہم