Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Amn Iqbal's Photo'

امن اقبال

2000 | لکھنؤ, انڈیا

امن اقبال کے اشعار

دیکھتا روز ہے وہ مجھ کو مگر جانے کیوں

چاند سے اپنی کوئی بات نہیں ہوتی ہے

ان کی خوشبو سے مہکتی ہیں ہزاروں صدیاں

پھول جو راہ محبت میں بکھر جاتے ہیں

تیرے بس میں ہے معتبر کر دے

میں ہوں قطرہ مجھے گہر کر دے

وصل کی راہ نکالیں تو نکل سکتی ہے

ہجر ہی اپنا مقدر ہو ضروری تو نہیں

دعا کرو کہ کوئی راہ وصل کی نکلے

تمام عمر مہاجر نہیں رہیں گے ہم

دل پہ کوئی ملال کیا کرنا

چیزیں ہوتی ہیں ٹوٹنے کے لئے

لوگ حسن و ادا کے قیدی ہیں

اور ہم ریختہ کے قیدی ہیں

دیکھ کر تجھ کو آج برسی ہیں

ایک مدت سے خشک تھیں آنکھیں

Recitation

بولیے