Asar Lakhnavi's Photo'

اثر لکھنوی

1885 - 1967 | لکھنؤ, ہندوستان

دبستان لکھنو کے متاخرین شاعروں میں ممتاز،مخصوص لکھنوی طرز کے لیے معروف،ایڈیشنل کمشنر،ایجوکیشن منسٹر،ہوم منسٹر اور حکومت کشمیر میں کارگزار وزیر اعظم

دبستان لکھنو کے متاخرین شاعروں میں ممتاز،مخصوص لکھنوی طرز کے لیے معروف،ایڈیشنل کمشنر،ایجوکیشن منسٹر،ہوم منسٹر اور حکومت کشمیر میں کارگزار وزیر اعظم

اثر لکھنوی کا تعارف

تخلص : 'اثر'

اصلی نام : مرزا جعفر علی خاں

پیدائش : 12 Jul 1885 | لکھنؤ, اتر پردیش

وفات : 06 Jun 1967 | لکھنؤ, اتر پردیش

Relatives : عزیز لکھنوی (استاد)

LCCN :n88001327

آہ کس سے کہیں کہ ہم کیا تھے

سب یہی دیکھتے ہیں کیا ہیں ہم

اردو کے معتبر شاعر، عالی نقاد، عالم ، ادیب، مترجم اور فرہنگ نگار جناب اثر لکھنوی کی ولادت 12 جولائی 1885 کو لکھنؤ کے محلہ کٹرہ ابو تراب میں ہوئی۔ ان کا اصل نام مرزا جعفر علی خاں تھا۔ اثر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ 1902ء میں انٹرنس کا امتحان پاس کرکے کیننگ کالج لکھنو میں داخل ہوئے اور وہیں سے 1906ء میں بی اے پاس کیا۔ سال بھر انگریزی ایم اے کا کورس پڑھا اور ایل ایل بی میں بھی داخلہ لیا۔ انہیں شاعری کے فن پر کامل عبور تھا اور وہ اردو زبان کے پارکھ تھے۔ البتہ فارسی، ہندی، انگریزی اور سنسکرت سے واقفیت رکھتے تھے۔ اثر نے گیارہ سال کی عمر میں نوحے لکھنا شروع کیا۔ اس وقت وہ "جعفرؔ" تخلص کرتے تھے۔

اثر نے 1907ء میں سیتا پور سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا اور 1909ء میں وہ ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1922ء تک کانپور میونسپلٹی میں بحیثیت ایگزیکٹو آفیسر خدمات انجام دیں۔ 1935ء تک ڈپٹی کلکٹر کی حیثیت سے خدمات دیتے رہے اور اس کے بعد ترقّی پاکر 1937ء سے 1940ء تک کلکٹر رہے۔ کلکٹری کے آعلیٰ منصف سے سبکدوش ہوکر ریاست جمو و کشمیر میں وزیر اور تھوڑی مدت کے لیے وزیر اعظم بھی رہے۔ دورانِ ملازمت "ایم-بی-ی"، "خان بہادر" کے خطابات اور"sword of honour" کے علاوہ کئ تمغے حاصل کئے۔ اثرؔ لکھنوی کو 1962ء میں "پدم بھوشن" اعزاز ان کی اردو خدمات پر دیا گیا۔

اثرؔ لکھنوی کی شاعری کی کتابوں میں غزلوں کے مجموعے "اثرستان" (1924ء)، "بہاراں" (1939ء)، "نوبہاراں" (1957ء) اور "عروس فطرت" (نظموں کا مجموعہ 1962ء) ، "مطالعۂ غالب" (1957ء)، "انیسؔ کی مرثیہ نگاری"(1951ء)، "چھان بین" (تنقیدی مضامین 1950ء)، "فرہنگ اثرؔ" کی تین جلدیں اور مختلف زبانوں کے منظوم ترجمے اور "بھگودگیتا" کا ترجمہ بھی شامل ہیں۔ کچھ غیر مطبوعہ کلام ’’ سحرستان‘‘ میں بھی موجود ہے۔ 82 سال کی عمر میں 6 جون 1967ء میں ان کا انتقال ہو گیا اور وہ تال کٹورے لکھنؤ کی کربلا میں آسودہ خاک ہوئے۔