Aslam Emadi's Photo'

اسلم عمادی

1948

ہزار راستے بدلے ہزار سوانگ رچے

مگر ہے رقص میں سر پر اک آسمان وہی

تم مرے کمرے کے اندر جھانکنے آئے ہو کیوں

سو رہا ہوں چین سے ہوں ٹھیک ہے سب ٹھیک ہے

تمہارے درد سے جاگے تو ان کی قدر کھلی

وگرنہ پہلے بھی اپنے تھے جسم و جان وہی

ہوائیں شہر کی آلودۂ کثافت ہیں

یہ صاف ستھرا پن اور یہ نفاستیں جھوٹی

انہیں یہ فکر کہ دل کو کہاں چھپا رکھیں

ہمیں یہ شوق کہ دل کا خسارہ کیونکر ہو

ہم بھی اسلمؔ اسی گمان میں ہیں

ہم نے بھی کوئی زندگی جی تھی

نمی اتر گئی دھرتی میں تہہ بہ تہہ اسلمؔ

بہار اشک نئی رت کی ابتدا میں ہے