Aslam Kolsarii's Photo'

اسلم کولسری

1946 - 2016 | لاہور, پاکستان

اسلم کولسری کے اشعار

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ

اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں

بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں

اسلمؔ بڑے وقار سے ڈگری وصول کی

اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا

صرف میرے لیے نہیں رہنا

تم مرے بعد بھی حسیں رہنا

جب میں اس کے گاؤں سے باہر نکلا تھا

ہر رستے نے میرا رستہ روکا تھا

کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گل

یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا دیا

قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا

یہی ہے میری حقیقت یہی فسانہ مرا

جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک

دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے