Athar Nasik's Photo'

اطہر ناسک

1959 - 2012 | ملتان, پاکستان

اطہر ناسک کے شعر

سورج لحاف اوڑھ کے سویا تمام رات

سردی سے اک پرندہ دریچے میں مر گیا

نجانے کون سی مجبوریاں ہیں جن کے لیے

خود اپنی ذات سے انکار کرنا پڑتا ہے

یقین برسوں کا امکان کچھ دنوں کا ہوں

میں تیرے شہر میں مہمان کچھ دنوں کا ہوں

میں اسے صبح نہ جانوں جو ترے سنگ نہیں

میں اسے شام نہ مانوں کہ جو تیرے بن ہے

میں پوچھ لیتا ہوں یاروں سے رت جگوں کا سبب

مگر وہ مجھ سے مرے خواب پوچھ لیتے ہیں

بنانا پڑتا ہے اپنے بدن کو چھت اپنی

اور اپنے سائے کو دیوار کرنا پڑتا ہے

کتنے معنی رکھتا ہے ذرا غور تو کر

کوزہ گر کے ہاتھ میں ہونا مٹی کا

یہیں کہیں پہ عدو نے پڑاؤ ڈالا تھا

یہیں کہیں پہ محبت نے ہار مانی تھی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے