امن اور آشتی سے اس کو کیا

اس کا مقصد تو انتشار میں ہے

یہ اپنی بے بسی ہے یا کہ اپنی بے حسی یارو

ہے اپنا ہاتھ ان کے سامنے جو خود بھکاری ہیں

ہماری مفلسی آوارگی پہ تم کو حیرت کیوں

ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ سوغاتیں تمہاری ہیں

اپنے لیے ہی مشکل ہے

عزت سے جی پانا بھی