Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بدر منیر کے اشعار

1.5K
Favorite

باعتبار

کچرے سے اٹھائی جو کسی طفل نے روٹی

پھر حلق سے میرے کوئی لقمہ نہیں اترا

جب وصل کا آئے گا ترے ساتھ صنم دن

اس دن کو حقیقت میں کہوں گا میں جنم دن

اس سے بڑھ کر اور کیا ہم پر ستم ہوگا منیرؔ

مشورہ مانگا ہے اس نے فیصلہ کرنے کے بعد

کنج حیرت سے چلے دشت زیاں تک لائے

کون لا سکتا ہے ہم دل کو جہاں تک لائے

کوئی بھی سر میں نہیں ہے منیرؔ کیا کیجے

یہ زندگی کا ترانہ ریاض مانگتا ہے

چراغ اندر کی سازشوں سے بجھے ہوئے ہیں

اور اس کا الزام بھی ہوا پر چلا گیا ہے

پڑ جاتے ہیں کتنے چھالے ہاتھوں میں

آتے ہیں پھر چند نوالے ہاتھوں میں

بوڑھے کمزور والدین کے ساتھ

جی رہا ہوں میں کتنے چین کے ساتھ

کیا خبر کون سا رستہ تری جانب نکلے

بے ارادہ بھی کئی بار سفر کرتے ہیں

میں آج تجھ سے ملاقات کرنے آیا ہوں

نئی غزل کی شروعات کرنے آیا ہوں

سپہ سالار کے جب ہاتھ کانپیں تو سپاہی بھی

زیادہ دیر پھر میدان میں ٹھہرا نہیں کرتے

مسکرا کر اگر وہ دیکھے تو

آئنے پر نشان پڑ جائے

ایک امید کے سہارے پر

کتنی تاخیر دیکھ لیتے ہیں

زمیں پہ صرف اتارا نہیں منیرؔ اس نے

پھر اس کے بعد ہمارا خیال بھی رکھا

جو اہل عشق ہیں دیتے ہیں زور برگر پر

جو اہل حسن ہیں سپنے ڈنر کے دیکھتے ہیں

کرنی پڑ جائے وضاحت پہ وضاحت لیکن

ہم تری بات کی تردید نہیں کر سکتے

پھر اپنی اس پریم کہانی پر آیا ڈک لائن

اب وہ مجھ کو جن کہتی ہے اور میں اس کو ڈائن

اگر ہے نیند نہ آنے کا عارضہ تجھ کو

تو بیڈ پہ لیٹ کے فوراً کوئی کتاب اٹھا

کیا ہوا ہے اسے ڈائٹنگ نے اتنا سلم

سو اس کی پکس کو ہم زوم کر کے دیکھتے ہیں

اسی لیے تو صحافیوں کو یہ پر تکلف ڈنر دیا ہے

کسی طرف سے نہ کوئی کڑوا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا

سنا تھا گنجے قسمت والے ہوتے ہیں

اور سنتے ہی سنتے عرصہ بیت گیا

پولس کہاں سے ٹپک پڑی ہے کہا یہ ڈاکو نے سٹپٹا کر

مداخلت کا نہ رتی بھر احتمال ہوگا یہ طے ہوا تھا

آئینہ دیکھیں تو غصہ آتا ہے

سر سے ٹوپی اترے عرصہ بیت گیا

طے ہو چکی ہے اس سے جدائی مگر منیرؔ

تو اس کے ساتھ لمحۂ انکار تک تو چل

کر گئی ہیں دو ہی خوراکیں مجھے چنگا بھلا

دید اس کی جیسے اینٹی بائیٹک کی ڈوز ہو

ہماری زلف سیہ کا بھرم نہ کھل جائے

بچا ہوا ہے جو پیالی میں وہ خضاب اٹھا

قوم کے حق میں جو بھی تجاویز تھیں التوا میں رہیں

جن میں ذاتی مفادات تھے ان پہ فوراً عمل ہو گیا

جس منظر کا حصہ تیری ذات نہیں

میری نظر میں اس کی کوئی اوقات نہیں

جیون ہے سڑک اور کنارے پہ کھڑے ہیں

لگتا ہے کہ مدت سے اشارے پہ کھڑے ہیں

کچھ وقت جو اس شخص کی صحبت میں گزارے

آئیں گی نظر صرف اسے دہر میں غزلیں

یہ ایسی برق ہے اکثر جو میرے سر پہ گرتی ہے

نہیں ہے فرق اس میں اور بلائے ناگہانی میں

سارا ملبہ گرا نہ دیں مجھ پر

چل رہی ہے یہ افسران میں کیا

بن گئے دولہے ہزاروں اپنے ہاتھوں میں پلے

ہم مگر ہو جائیں گے یوں ہی پرانے ہائے ہائے

اک دوست مجھ سے کہنے لگا کچھ تو شرم کر

بکرے کے ساتھ اس نے اتاری ہیں سیلفیاں

کوئی قریب سے بولا کہ فکر مت کیجے

یہ پانچ سال اسمبلی میں جا کے سوئے گا

جب کبھی سہ بار کانوں میں پڑے حرف قبول

دل پہ لگتے ہیں ہزاروں تازیانے ہائے ہائے

لڑ رہا ہوں میں اکیلا کارزار ہست میں

کر فراہم تو بھی ظالم اپنے ہونے کا جواز

چائے کا تو ذکر ہی مت کیجیے

اب تو بس کالا ہے سب کچھ دال میں

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے زنانی میں

اماں شوہر کو پھر ملتی نہیں اس دار فانی میں

بے چہرہ انسانوں کی اس بستی میں

اچھا ہے آئینے توڑ دئے جائیں

آپ کی تو جلد باجی ہو رہی ہے اب خراب

میں کروں گی فیشیل بن جائے گی تازہ گلاب

نکلی ہو پارلر سے فریش فیس لے کے تم

لگتا ہوں میں جو کالی چرن تم کو اس سے کیا

گو حرف و اشک دونوں تھے سامان گفتگو

پھر بھی ہماری بات میں ابہام رہ گیا

تم نے تو دس ہزار کا جوڑا پہن لیا

ٹوٹے ہوئے ہیں میرے بٹن تم کو اس سے کیا

سمجھ میں آتا نہیں یہ کیسی نمو ہے مجھ میں

وہ میری مٹی میں کچھ ملا کر چلا گیا ہے

کہاں سے ہم اپنی گردشوں کا جواز ڈھونڈیں

ہمارا محور زمیں کے محور سے مختلف ہے

تری صورت میں رہائی مل گئی

آنکھ کتنے منظروں میں قید تھی

اور کیا مفہوم ہوگا خود فریبی کے سوا

تشنگی جلتے ہوئے سورج پہ گر ظاہر کریں

بن گئے انسان اپنی ذات میں جنگل منیرؔ

بستیوں سے اڑ گئی ہے بوئے آدم زاد تک

تجھ کو خود سے منہا کرتے

نا ممکن تھا ایسا کرتے

Recitation

بولیے